ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ،،دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان نے شائع کی ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعرات، 2 مارچ، 2017

وہ مجھے اچھا لگتا ہے / زارا مظہر

زارا مظہر

میں دن بھر بے کل رہتی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ 
میں راتوں کو دیر تک جاگتی ہوں 
وہ میری قسمت میں نہیں ہے 
یہ میں ۔ ۔ ۔   جانتی ہوں

وہ کسی اور کی امانت ہے
اسکو سوچنا خیانت ہے ۔ ۔ 
پر میری چاہت میں صداقت ہے
میری محبت ۔ ۔ ۔ صرف عبادت ہے 

اسکے حِصار میں جینا اچھا لگتا ہے
اسکے احساس میں رہنا اچھا لگتا ہے
مجھے پتہ ہے یہ میرا ۔ ۔   حق نہیں ہے
مگر اس کی پرواہ کرنا اچھا لگتا ہے ۔ ۔

وہ بہت۔ ۔  بہت مجبور ہے ۔ ۔ ۔ 
رات کالی سیاہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔گھور ہے
مصائب کی اِک شبِ دیجور ہے
سب اپنوں سے ۔ ۔ ۔ بہت دور ہے

خدا اسے خیر سے لائے ۔ ۔ ۔ ۔
سب اپنوں سے ملائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
اسے پھر سے ہنسائے ، بسائے ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ 
اسے اسکے سارے حق لوٹائے ۔ ۔ ۔ ۔

میں ۔ ۔ 
مجھے تو بس اسے اپنا کہنا اچھا لگتا ہے

جمعہ، 20 جنوری، 2017

ایک نظم / زارا مظہر

میرے ہمدم ۔ ۔ ۔ ۔ 
میرے ہمراز  ۔ ۔ ۔ 
سن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کچھ نازک لمحوں کی اسیری ہے ۔ ۔ ۔ 
کچھ خوابوں کی دل پذیری ہے ۔ ۔ ۔ 
کچھ گیت ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ 
کچھ غزلیں ہیں ۔ ۔      
کچھ چاند راتیں ہیں ۔ ۔ ۔ 
 گلاب باتیں ہیں ۔ ۔ ۔ 

تیری سنگت کی ، خیالی قربت کی ۔ ۔ ۔
میرے ہمدم ۔ ۔ ۔ ۔
میرے ہمراز ۔ ۔۔۔ 
سن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میرے دل کی آ واز
تیری میٹھی باتیں ۔ ۔ ۔ 
تیرا شستہ لہجہ ۔ ۔ ۔ ۔
تیری ستھری گفتگو ۔ ۔ ۔ ۔ 
لہجے کی حلاوت ۔ ۔ ۔ ۔ 
سب ہیں امانت ۔ ۔ ۔ ۔ 
مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میرے ہمدم ۔ ۔ 
میرے ہمراز ۔ ۔ ۔ 
سن ۔ ۔ ۔ ۔ 
کیا !!!
لمحوں کی نزاکت ۔ ۔ ۔ 
خوابوں کی صداقت ۔ ۔
چاند کی چاندنی ۔ ۔ ۔ 
غزلوں کا تغّزُل ۔ ۔ ۔ 
سنگیت کے سُر ۔ ۔ ۔ ۔
گیتوں کا کلا کار ۔ ۔ ۔ ۔ 
گلابوں کی خوشبو ۔ ۔ ۔
لہجے کا رس ۔ ۔ ۔ ۔
خیال کو حقیقت میں بدل لوں ۔ ۔ ۔
تمہیں اپنے پاس میں رکھ لوں ۔ ۔ ۔ ۔
بس گھڑی بھر کو ؟؟؟

سوموار، 31 اکتوبر، 2016

نومبر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تجھ سے کچھ کہنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ زارا مظہر

زارا مظہر
نومبر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تجھ سے کچھ کہنا ہے
کچھ امیدیں ہیں
کچھ خواہشیں ہیں
کچھ خواب ادھورے ہیں
اذّیت ہے ، وحشت ہے
ندامت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ 
کچھ زخم ہیں
جنکی رفاقت ہے
اِک بے نیازی 
تیری عادت ہے
درد بڑا بے درد ہے 
یا شاید ہمدرد ہے
کچھ نشتر ہیں یادوں کے
کچھ دُکھ نارسائی کے
ہجر کی آ بلہ پائی کے
نیندوں کا دیس پرایا ہے
نومبر ۔ ۔ ۔ ۔
تو پھر لوٹ آ یا ہے
امید ہے نا آس ہے 
کسک ہی کسک پاس ہے
رات کی خاموشی بھیگی سی ہے 
پلکوں پہ نمی مستقل سی ہے
ہمراہ کچھ بے بسی ہے 
چین ہے نا قرار ہے 
نا خود پہ کچھ اختیار ہے
نا تو یاد کرتا ہے 
نا ہم نے بھلایا ہے 
نومبر ۔ ۔ ۔ ۔ 
تو ۔ ۔ ۔ ۔ پھر لوٹ آ یا ہے

بدھ، 21 ستمبر، 2016

جاگے ہیں جذبے ۔ الوہی ۔۔ زارا مظہر

بھیجے ہیں اس نے آ ج 
پھولوں کے کچھ حسین گہنے  
جوہی کی نازک کلیاں
بیلے کا البیلا کنگن 
گیندے کا چمکتا جھومر 
گلابوں کے ہار خوشبو دار 
کسی میں خوشبو
 کسی میں نزاکت 
کسی میں تازگی 
کسی میں لطافت۔ 
بندھا ہے رنگ 
خوشبوؤں کے سنگ 
کمرہ ۔  مہک گیا ہے 
من ۔ دہک گیا ہے
جاگے ہیں جذبے ۔ الوہی
پھر بھی ہے کہیں  کچھ کمی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
رنگوں کی برسات ہو 
خوشیوں کی بارات ہو 
آ ج ۔   اگر تیرا ساتھ ہو 

اتوار، 18 ستمبر، 2016

کھوٹے سکے ،،، زارا مظہر

زارا مظہر
میرے چند حسین ،ناقابلِ گرفت خواب ان کھوٹے پیسوں کی طرح ہیں جو خرچ نہیں کیئے جا سکتے بس پڑے ہی رہتے ہیں ۔ عام طور پر گھروں میں ایک برتن مختص کر دیا جاتا ہے جو کسی  کارنس ، شوکیس ، یا ذرا اونچی جگہ پر رکھ دیا جاتا ہے تاکہ کار آ مد الّم غلّم اس میں ڈال دیا جائے اور بوقتِ اشد ضرورت اسے کھنگال کر کام کی چیز نکال لی جائے اب پیسے چونکہ پیسے ہیں پھینکے نہیں جاسکتے تو اس میں ڈال دیئے جاتے ہیں ۔ بس میرے خوابوں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ریا ۔ لڑکیاں اوائل عمری سے ہی کالے مُشکی گھوڑے والے شہزادوں کے خواب دیکھنا شروع کر دیتی ہیں اچھے گھروں،کوٹھیوں،بنگلوں اور کچھ زیور لتّے کے مگر میرے خواب کچھ انوکھے رہے ۔ ہمیشہ ہی کسی کہانی کا پلاٹ ، لوکیشن، تانا بانا، حتیٰ کہ پورے پورے ڈائلاگ تک وحی کی طرح اترتے گہری نیند میں بھی ایک ہوش مندی کی کیفیت رہتی کانوں میں نِدا آ تی رہتی اٹھو اور لکھ لو مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔جوانی کی مست نیند ایسا گھیرتی کہ اٹھ کر کچھ قلم بند کرنے کی ہمت نہ پڑتی اور صبح جب آ نکھ کُھلتی تو مفلس کی محبوبہ کی طرح سب روٹھ چکا ہوتا ۔
تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جہاں کورس کے علاوہ کسی کتاب کو ہاتھ لگانا ناقابل معافی جرم ہوتا اور پکڑی جانے والی کتاب جو کسی دوست سے پڑھنے کے لئیے ادھار لی گئ ہوتی ناقابل بیان سرزنش کے ساتھ چار ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ہتھیلی پر رکھ دی جاتی ۔ مگر پھر بھی اس دور میں اتنی کتب پڑھیں کہ اب حیرت ہوتی ہے چاند کی چاندنی میں چھت پر ناگن سپیروں کے ایسے ایسے قصے پڑھے کہ ڈر سے بستر سے پاؤں اتارنے کی ہمت نا ہوتی خوف سے حلق میں کانٹے پڑ جاتے چیخنے کی کوشش میں گلہ بند ہو جاتا مگر لت ایسی لگی تھی کہ عمروعیار کی زنبیل بھی اپنے شوق کے آ گے چھوٹی پڑ جاتی  ٹارزن کی ساری سیریز پڑھ لیں ابنِ صفی کے ناول  جولیا ،جوزف کے قِصے اور وہ اشتیاق احمد کی کہانیاں لگتا کہ اگر اسکا  نیا آ نے والا ناول سب سے پہلے نہیں پڑھا تو ملک کو درپیش خطرات کا دفاع کیسے ہوگا خیر سلسلہ تو چلتا ہی رہا بڑے ہونے پر نوعیت ذرا بدل گئ سسپنس ڈائجسٹ میں چھپنے والے سلسلے نے سالوں سحر میں جکڑے رکھا ۔ کالج آ نے تک بڑے لکھاریوں پر نظر رہنے لگی جو کالج کی لائبریری سے پوری ہونے لگی نسیم حجازی کے سارے اسلامی اصلاحی ناول پہلے سال پڑھ ڈالے کیوں کہ فسٹ ائیر کو کسی اور قسم کی کتابیں ایشو نہیں کی جاتی تھیں لائبریرین نے شوق دیکھ کر آ فر کر دی کہ فارغ پیریڈ میں میرے ساتھ کتابوں کی ترتیب سیٹ کروا دیا کرو تو اپنی پسند کی کتاب پڑھنے کے لئیے لے سکتی ہو واہ جی پھر تو موج ہی لگ گئی کام کے دوران بڑے بڑے ناموں کی لسٹ نوٹ کل لی جاتی اور پھر دامے،ورمے،سخنے فائدہ اٹھا لیا جاتا مگر پیاس نا بجھتی 
        شادی کے بعد کوئ پابندی تو نہیں تھی مگر گھریلو ذمہ داریوں نے ایسا جکڑا کہ وہی چھپ چھپا کر پڑھنے والی زندگی غنیمت لگتی مگر اوپر تلے بچوں کی آ مد نے ایسا  بد حواس کیا کہ خواب آ نے ہی بند ہو گئے البتہ کتابوں کا ساتھ نہیں چھوٹ سکا جو بھی میّسر ہوئ اسے جانے نہیں دیا ٹرین کے دور دراز سفروں میں کتاب بھی ہمسفر رہتی اکثر اوقات نان پکوڑے والا اخبار بھی جھاڑ جھپاڑ کر استفادہ حاصل کر لیتی کبھی کبھار کوئی بھولا بسرا  خواب پلکوں پہ اٹکا بھی رہ جاتا تو بستر چھوڑنے سے پہلے یہ بات ذہن میں ہوتی کہ منّے یا منّی کو اٹھنے سے پہلے منہ میں فیڈر دینا ہے تاکہ وہ سوتی رہے اور پھر اسکول جانے والے بچوں کے کام ایک ترتیب سے دماغ کا احاطہ کیۓ رہتے ایک چوٹی ایک کی ٹائ باندھنے میں مدد ایک پیر کچن میں ایک لاؤنج میں ناشتے کے ساتھ ساتھ بچوں کے لنچ باکس اور گھڑی کی ٹِک ٹِک  کا ساتھ دیتے دیتے ہلکان ہو جاتی میاں کی آ فس تیاری میں مدد میچنگ موزے رومال سامنے پڑے نظر نا آ تے ۔ سبکے سدھارنے کے بعد اپنے ناشتے کے دوران میڈ کی آ مد جو اتنی جلدی میں ہوتی کہ لگتا پوری کالونی کے گھروں کو اس نے ہی نمٹانا ہے یا اسکی ٹرین نِکل جائے گی اور جہاز تو ضرور ہی اڑ جاۓ گا اسکے ساتھ کھپتے کھپتے اگر رات کا دیکھا کوئ بھولا بِسرا خیال ذہن میں آ تا بھی تو فراغت تک اُڑن چھو ہو جاتا ۔
خیال کی تتلیاں اور خواہشوں کے جگنو اتنے نازک ہوتے ہیں کہ بس آ نکھ کُھلنے کے ،شور، سے ہی اُڑ جاتے ہیں وہ کہاں انتظار کرتے ہیں کہ آ پ فارغ ہوں تو ہم بھی دستیاب ہوں خوابوں کو قلم کی گرفت میں لانے کے لئیے دِماغ کی یکسوئی اتنی ضروری ہے کہ فرشتوں کے پروں کی آ واز تک سنائ دیتی ہے اگر مطلوبہ یکسوئی نا  مِلے تو چاہے آ پکے پاس ہزاروں الفاظ کا ذخیرہ ہو انوکھے،اچھوتے،رنگین،سنگین کیسے ہی خیال ہوں خوبصورت کاغذ قلم ہوں کچھ نہیں لِکھا جا سکتا اور اگر آ پ کے گِرد ایک خوبصورت یکسو
 ماحول  ہو ذہن اپنی سوچ میں آ زاد ہو سونے جاگنے پر کوئ پابندی نا ہو (مطلب آ پ جب مرضی اٹھ کر لِکھنا شروع کر دیں )تو ہی کچھ لکھنے کے خواب پایۂ تکمیل تک جاتے ہیں ایک خاص بات بھی ابھی کچھ عرصہ پہلے علم میں آ ئ کہ یہ سارے لِکھاری،شعرا،اور ادیب بڑھتی عمر کے ساتھ اتنے خوبصورت اور گریس فل کیسے ہو جاتے ہیں جب آ پ اچھوتے خیال خوبصورت الفاظ اور انوکھے رنگ لکھتے ہیں  تو یہ ساری کیفیات طاری کرنی پڑتی ہیں تو یہ ساری سوچیں انہیں بھی اتنا ہی حسین و رنگین بنا جائیں گی پہلے وہ اپنے اچھوتے خیال کو پہنیں گے الفاظ کو اوڑھیں گے انوکھے رنگ میں ڈوبیں گے تو ہی کچھ ڈھالیں گے اور ڈھلنے تک یہ ساری خوبصورتیاں انکی شخصیت کا بھی حصہ بن جاتی ہیں 
   بات کر رہی تھی اپنے کھوٹے سِکوں کی اور کہاں سے کہاں جا نکلی میرے چند ایسے ہی کھوٹے سِکے جو طاقِ نسیاں بن چکے تھے چل گئے ہیں اور مجھے وہی خوشی ملی ہے جو کھوٹا سِکہ خرچ کرنے کے بعد ملتی ہے  ۔ تھوڑی حوصلہ افزائی سی ہو گئی ہے ایسے سِکوں کی ایک پوری بوری ہے جو میں پچھلے چند سالوں میں جمع کر چکی ہوں سوچتی ہوں کبھی کبھار داؤ لگا کر خرچ کر ہی لیا کروں گی جس سے دوکاندار کو شاید اتنا نقصان نہیں ہو گا البتّہ میرے حِصّے میں وہ خوشی ضرور آ ۓ گی جو کھرے سکے کو خرچ کرنے کے بعد  نہیں ملتی

اتوار، 11 ستمبر، 2016

الجھی سلجھی محبت (نظم) ۔۔۔ زارا مظہر

زارا مظہر
کھویا کھویا چاند تھا 
ہر سماں ماند تھا 
رات بھی سہانی تھی 
پُرفسوں اسکی کہانی تھی
چاندنی چِٹکی تھی چارسو
روپہلا سنّاٹا  دو بدو
نم، ریتلی ،  ساحلی ہوا 
سرِ گوش تھی جا بجا  
بنسری تھی یا نوائے سروش 
سطحِ برآب پانی بھی خاموش
مست اُڑتا،لہراتا آ نچل 
من پاگل ،تن بھی پاگل 
رنگیلی ہوا،سریلی فضا 
گردوپیش میں تھی نغمہ سرا
پرسمے چپ چاپ بیت گیا
لمحہ لمحہ بن کر جیت گیا
نا کسی سے بیان ہوئی 
نا کسی پر عیاں ہوئی  
سلجھتی رہی باہر 
الجھتی رہی بھیتر 
اپنے آ پ سے محبت 
اپنے آ پ سے محبت