 |
| نیلما ناھید درانی |
چمکتا اک نگینہ دیکھ آئے
جہاں بھر کا خزینہ دیکھ آئے
زھے قسمت بلایا تھاہمیں بھی
محمد کا مدینہ دیکھ آئے
کہا لبیک تو وہ سامنے تھے
بلانے کا قرینہ دیکھ آئے
جہاں سجدہ کناں تھے خود محمد
اسی دھرتی کا سینہ دیکھ آئے
فرشتے بھی تھے مصروفِ عبادت
شفاعت کا سفینہ دیکھ آئے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں