تم نہیں دیکھ سکتے
لیکن میں دیکھ سکتا ہوں
نیند کا سایہ
اور دھوپ کی پرچھائیں
اور قدیم پتھروں
اور درختوں کی چھالوں سے
برآمد ہوتی روحیں
اور سُن سکتا ہوں
ہوا کی سرگوشیاں
اور دروازے کُھلنے کی آواز
اور آ جا سکتا ہوں
اُن راستوں پر
جو تمہارے وجود کے اٹلس میں
کہیں دکھائی نہیں دیتے !
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں